Sunday, November 17, 2013

بکھرے موتی۔ ۱


دو قطبی دنیا کے خاتمے کے بعد خیبر پختونخوا اور پاکستان میں بائیں بازو کے کارکن منتشر ہوگئے۔ کشش ثقل نہیں رہا اور یہ سیارچے فضا میں اپنے مقام کی تلاش میں تاہنوز سرگردان ہیں۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ کچھ کچھ شکلیں (Formations) وجود میں آنے لگی ہیں۔ سب میں تشنگی ہے منزل کیلئے دو ٹوک جواب کے منتظر ہیں۔ پیش نظر ایک مسئلہ فکری ہے اور دوسرا منتشر سیاسی ماحول میں اپنے مقام کا تعین۔
دیکھا جائے تو کئی مرغولے بنتے  جارہے ہیں فکر کی بات تب ہوتی جب انتشار میں ایک دوسرے کا گلا کاٹتے گالیاں دیتے اور اس طرح  بھسم ہوجاتے  جو مرکزے بنتے جارہے ہیں (شاید کچھ نظر سے اوجھل ہوں گے) جو اس وقت نشاندہی کے تعریف پر اترتے ہیں تو درجہ ذیل ہو سکتے ہیں۔
۱۔ کمیونسٹ پارٹی آف پاکستان کے نام کے وارث ، جو آج کے دور میں اپنے فکر کو توانائی  دلانے کیلئے سٹالنسٹ تشخص پر زور دیتے ہیں ، ان کا خیال ہے کہ سٹالن کے بعد تحریک موقع پرستی یا سازشوں کا شکار رہا اس کو مضبوط پاکیزگی کے ساتھ پھر سے کھڑا کرنے کی ضرورت ہے۔
۲۔ سٹالن کے دورکے بعد  میں مارکسٹ تحریک انحراف کا شکار رہا۔ ورنہ یہ دن دیکھنے نہ پڑتے اور انقلاب ناکام نہ ہوتا۔ انقلاب کو  اصل شکل (بقول انکے) میں برپا  کرنے کی ضرورت ہے۔ چوتھی انٹرنیشنل ، لیون ٹرا ٹسکی کے پیرو کاروں کے مختلف گروپ جن میں لال خان کا گروپ زیادہ موثر ہے۔
۳۔  عوام کو ساتھ جوڑے بغیر اور ان کے عمومی مانگوں کا ساتھ دیئے بغیر پیش قدمی نا ممکن ہے۔ من چلوں کے خواہشات انقلاب نہیں لا سکتی، انقلاب اپنے وقت پر اور تاخیر سے ہوگا ۔بورژوا جمہوریت میں اپنا بھر پور کردار ادا کرتے ہوئے چھوٹی چھوٹی پیش قدمیوں پر توجہ دینا ہوگا۔ عوامی ورکر ز پارٹی اور نیشنل پارٹی کے گروپ لگ بھگ اس موقف کے ہیں۔
۴۔ چھوٹے چھوٹے سیاسی گروپوں سے نتائج حاصل کرنا لا حاصل سعی  ہے۔ بڑے سیاسی جماعتوں کے ساتھ اپنے آپ کو ایڈجسٹ کرنے سے ان کو مثبت رخ دیا جاسکتا ہے۔ اے این پی اور قومی وطن پارٹی میں کچھ دوست اس طرح فکر رکھتے ہیں۔
۵۔ سواری کیلئے مناسب گھوڑے کی دستیابی کا انتظار ہے۔ تب تک اذیت کے ساتھ زندگی گزارنے میں عافیت ہے۔ پرانے وفتوں کو یاد کرنا اور     تو جہ ہٹانے کیلئے کسی کام میں مصروف ہونا بہتر ہے۔
ان سب میں کچھ قدر مشترک بھی ہے۔ معروضی لحاظ سے بہتر سیاسی و سماجی فکر کے حامل ہیں ۔ ذاتی زندگی میں عموماَ ایماندار ہیں ، عوام کا اعتماد ان کو حاصل ہے۔
افکار کے ٹکراو اور ڈائلاگ کا کوئی مربوط و منظم طریقہ کار نہیں ہے۔ سوائے اس کے کہ شادی بیاہ و فاتحوں میں بکھرے ہوئے فقروں کا تبادلہ کیا جائے۔اپنے پیاروں کے نام جو حالات کے رحم و کرم پر ہیں۔

Comment