بکھرے
موتی ۔ ۲
اس
عنوان سے ایک مختصر منظر نامہ پیش کیا گیا تھا ۔ تفصیل میں جانے سے پہلے عرض
کرتا چلوں کہ میں ایک سیاسی کارکن رہا ہوں کوئی دانشور نہیں۔ معروضی مشاہدات پر
مبنی تبصرہ کر سکتا ہوں دوم یہ کہ پختونخوا سے باہر دوستوں سےرابطے بہت کم
رہے اس لئے پختونخوا کو بنياد بنا کر لکھوں گا۔ پيارے انجنیئر جميل ملک کا طنز
قبول ہے۔
بکھرے
موتی شاعری نہیں ہے۔ پختونخوا ميں يہ ہزاروں موتی چاہے جن کا دور پہاڑوں پر بسیرا
ہو يا صحراوں، شہروں، ديہاتوں، کارخانوں يا کھيتوں ميں، جب دس بيس سال بعد بھی
مليں گے تو سياسی سوچ و فکر کے ساتھ تر و تازہ مليں گے۔ ان کے زہنوں ميں بنيادی
تضاد(Principle
Contradiction)عموما
يکسان رہتا ہے۔ دو ڈھائی سال پہلے پشاور ميں مختلف اضلاع سے ( چاہے جس سياسی پارٹی
ميں ہوں ) ان دوستوں کا ايک اجتماع ہوا تھا۔ خطے کی صورتحال، طالبائزيشن کے مسٔلے
وجوہات خدوخال لائحہ عمل وغيرہ پر مکمل يکسان موقف تھا۔ ميں نے ان دوستوں سے کہا
کہ آپ انسانوں ميں ايک الگ قبيلہ ، خيل ياSpecies اس لئے
ہيں کہ لمبی ريا ضت اور فکر نے آپ کو ممئز کر د يا ہے۔ کبھی پستول پر فايئر
نہيں کيا ہوگا ليکن مورچوں پر چڑھائی کرتے رہے ہيں۔ جيب ميں دو آنے نہيں ليکن باد
شاہ نواب آپ کے سامنے ہيچ ہيں ۔قوم پر سختی آتی ہے مارشل لا ہو تو آپ آ گے ہيں۔ جب
دوسرے نام نہاد سياسی اکابيرين چھپ سادھ ہوں تو آپ ہر آڑے وقت ميں آگوا کار ہيں۔
گھروں ميں ماں باپ ، بہن بھائی سے مجادلہ، سو سائٹی ميں انسانی اقدار کيلئے
مجادلہ، ہر محاز پر لڑتے لڑتے مارکسی فکر کی تصد يق کراتے رہے۔ کند ن بنتے رہے۔
ويسے تو سوسائٹی ميں عالم فاضل بہت ہيں۔ کيمسٹری، فزکس ،سوشل سائنسز ميں پی ايچ
ڈی ہيں ليکن ان کا علم ايک چينل ميں مسافت کر تا ہے۔ جبکہ مارکسی Epistemological & holistic approach رکتھے
ہيں۔ ايک دوسرے پر منحصر اور ايک دوسرے سے جڑا ہوا سائنسی انداز جس ميں آگے کی
نشاندہی خود بخود ہوتی رہتی ہے۔ اس اساسے نے اْن کو غنی بنا د يا ہے۔ فخر کرتا ہے۔
مطمئن ہے۔ کسی بھی سياسی صورتحال ميں آگے کے طرف راستہ نکالنے کے اہل ہيں۔
يہ
موتی سالہا سال سمجھ اور سچائی کی تلاش ميں ايک الگ Species بن گئے۔ موتی بن گئے۔
ليکن ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اب ان ميںCatalyst کیصلاحيت نہیں رہی۔ شاگردوں کا تسلسل رک گيا۔ وارث
نہيں چھوڑے۔ شرح نمود و مزید پيداوار نہ ہونے کے برا بر ہے۔ پرانوں کے جنازوں ميں
شرکت تک محدود رہ گئے۔ بکھرے نہ ہوتے تو بے پناہ طاقت بنتے۔ قومی انقلابی پارٹی نہ
ٹوٹتی توآج حکومت بنانے کی پوزيشن ميں ہوتی۔
(
آگے دو قطبی دنيا کا خاتمہ اور کشش ثقل )
