بکھرے موتی۔آخری
تیسرے نقطہ نظر کی وضاحت میں جانے سے
پہلے چند معروضی حقائق پر توجہ ضروری ہے۔
۱۔ یورپ میں جاگیرداری نظام کے خاتمے
اور سرمایہ داری کے ارتقا ئ کا چند صدیوں
پرانے طریقہ کار کا من و عن کلاسیکی طرز پر تکرار نہیں ہوگا۔ سرمایہ داری کا سامراجی شکل اختیار کرنے اور
ملٹی نیشنل کے وجود میں آنے سے اس کے بقیہ دنیا کے قبائلی و جاگیرداری نظام کی
تبدیلی میں گہرا کردار ہے۔ جو کلاسیکی نہیں لیکن بقیہ دنیا کے لئے فطری ہے۔
ہندوستان میں جاگیرداری کا خاتمہ کر دیا گیا لیکن پاکستان میں جاگیرداری برقرار
رہی۔ جس پر عالمی تبدیلیوں کے اثرات منفرد ہیں۔ آلات پیداوار سرمایہ دارانہ ہیں۔
پیداوار منڈی کے لئے ہے۔
لیکن سماجی رشتوں میں قبائلی و جاگیرداری رشتے کافی حد تک برقرار ہیں۔ وسطی پنجاب کے علاوہ بقیہ پنجاب اور دیہی سندھ میں جاگیرداری رشتے ہیں۔ اسی جاگیردار کا اپنا رہن سہن شہری(Urban) ہے اور سرمایہ کاری بھی کرتا ہے۔ بلوچستان کے اکثریتی علاقوں میں قبائلی رشتے برقرار ہیں۔ سماجی نفسیات غالب سرمایہ دارانہ نہ بن سکے۔ لہذا پارلیمنٹ کی آدھی طاقت اپنی توانائی جاگیرداری و قبائلی رشتوں سے حاصل کرتی ہے۔ پارلیمنٹ اور قانون سازی پر جاگیرداری کنٹرول ہے۔ جاگیرداری یا تو پْرتشد د کسان تحریک سے ختم ہو سکتی ہیں یا ملکی جمہوری قوتوں کا موثر آواز و کردار سے۔ بڑی ملکیتوں کو سرکاری کنسورشیم میں لے کر مالکان کو سٹاک ایکسچنج میں حصہ دار بنا کر جاپانی تجربہ ہی سیاسی معاشی و سماجی پیش رفت کا ذ ریعہ بن سکتا ہے۔ حکمران طبقات ریاستی اداروں کو اپنے مفاد کے لئے استعمال کرتی ہیں۔ لیکن ایسی مثالیں بھی بہت ہیں کہ ریاستی اداروں کی ادارتی مفادات مقدم ہو جاتی ہیں اور حکمران طبقات سے گٹھ جوڑ کر کے حکمرانی کرتے ہیں۔ پاکستان میں جسے اسٹیبلشمنٹ کہا جاتا ہے دونوں پر مشتمل طاقتور قوت ہے۔ بڑی پاڑٹیاں(Mainstream Parties) جب نام لینے پر مجبور ہو جاتی ہیں تو انہیں مقتدر قوتیں کہتے ہیں۔
لیکن سماجی رشتوں میں قبائلی و جاگیرداری رشتے کافی حد تک برقرار ہیں۔ وسطی پنجاب کے علاوہ بقیہ پنجاب اور دیہی سندھ میں جاگیرداری رشتے ہیں۔ اسی جاگیردار کا اپنا رہن سہن شہری(Urban) ہے اور سرمایہ کاری بھی کرتا ہے۔ بلوچستان کے اکثریتی علاقوں میں قبائلی رشتے برقرار ہیں۔ سماجی نفسیات غالب سرمایہ دارانہ نہ بن سکے۔ لہذا پارلیمنٹ کی آدھی طاقت اپنی توانائی جاگیرداری و قبائلی رشتوں سے حاصل کرتی ہے۔ پارلیمنٹ اور قانون سازی پر جاگیرداری کنٹرول ہے۔ جاگیرداری یا تو پْرتشد د کسان تحریک سے ختم ہو سکتی ہیں یا ملکی جمہوری قوتوں کا موثر آواز و کردار سے۔ بڑی ملکیتوں کو سرکاری کنسورشیم میں لے کر مالکان کو سٹاک ایکسچنج میں حصہ دار بنا کر جاپانی تجربہ ہی سیاسی معاشی و سماجی پیش رفت کا ذ ریعہ بن سکتا ہے۔ حکمران طبقات ریاستی اداروں کو اپنے مفاد کے لئے استعمال کرتی ہیں۔ لیکن ایسی مثالیں بھی بہت ہیں کہ ریاستی اداروں کی ادارتی مفادات مقدم ہو جاتی ہیں اور حکمران طبقات سے گٹھ جوڑ کر کے حکمرانی کرتے ہیں۔ پاکستان میں جسے اسٹیبلشمنٹ کہا جاتا ہے دونوں پر مشتمل طاقتور قوت ہے۔ بڑی پاڑٹیاں(Mainstream Parties) جب نام لینے پر مجبور ہو جاتی ہیں تو انہیں مقتدر قوتیں کہتے ہیں۔
۲۔ پاکستان اسلام کے نام پر بنا۔ جس میں مٹھی کی
بو اور انسان غائب تھا۔ قائد اعظم نے جو بھی کہا بے معنی ہے۔ اس کے نواب جاگیردار
ساتھیوں کا ٹولہ اسلام کا وارث نہیں بن سکتا تھا۔ وارث مْلا ہی ہو سکتے تھے۔ آئین
و قانون میں ممکنہ تبد یلیاں کی گئیں۔ اور اصلی اسلام کی تعریف کی وجہ سے بڑی
تعداد میں مَسلکیں وجود میں آئیں۔ ہر مسلک کی سیاسی پارٹی بنی۔ ہر مسلک بزور طاقت
اور بعض صورتوں میں وحشیانہ انداز سے دوسروں کی مسلک تبدیل کرنے کے درپے ہے۔ اس
طرح ارتقا دو شکلوں میں ہوئی۔ ایک فرقہ وارئیت اور دوسری طالبنائیزیشن۔ اسلام کے
اس پیش رفت سے عوام نالاں ہیں۔ اور یوں پاکستان کا نظریاتی اساس اب ملک کو جوڑنے
سے قاصر ہے۔ ہر ملک و قوم کا ایک نازPrideہوتا
ہے۔ جو قوم کو متحد رکھتا ہے۔ ایرانی، برطانوی، فرانسیسی، جرمن و جاپانی ناز Pride اگر
ان سے لے لیا جائے تو زوال اور اِنارکی مقد ر بن جاتی ہے۔ نہ صرف نظریاتی اساس
بلکہ پاکستانی ریاست کے سب پیچ پْرزے، اقتصاد، ادارے، قانون، نچھلے سطح پر عد لیہ
معدوم ہونے کی حد تک پہنچ گئے ہیں۔ تقریبا ایسی حالت ہوگئی ہے کہ جیسے ڈاکٹر مریض
کو جواب دے دیتا ہےاور اس سے پرہیز ختم کرا دیتا ہے۔ لواحقین مزاروں کا رخ کرتے
ہیں۔ اس کا احساس لاہور ملتان اور بالادست طبقات میں نہیں ہے۔ وہ سمجھتے ہیں کہ یہ
سوچ شکست خوردہ بیمار ذہنیت کی پیداوار ہے لیکن پاکستانی عوام ۱۵ دسمبر اور ۱۶
دسمبر ۷۱ کی ایک دن کی ذ ہنی حالت کی فرق کو خود د یکھ چکے ہیں کہ کیا سے کیا
ہوجاتا ہے؟لیکن دوسری طرف یہ حقیقت کہ پشاور اور ٹیکسلا، پشاور اور لاہور ملتان کا
رشتہ ۴۷ میں نہیں بنا۔ ان رشتوں کو انسانی اور سائینسی بنیادوں پر کھڑے کرنے سے
ملک بچے گا ورنہ جغرافیائی ٹوٹ پھوٹ نئے کرب کو جنم د یگا۔ اٹھارویں ترمیم خوش
آئند ہے لیکن بلوچ نوجوانوں کی صلاحیتوں اور توانائی کو ملک کے لئے استعمال کرنے
کے لئے ایک نئے عمرانی معاہدے کی ضرورت ہوگی۔ جو قوموں کی رضاکارانہ وفا ق،
جمہوریت، انسانی حقوق، طبقاتی تفریق کم کرنے، جنسی تفریق ختم کرنے، اور لفظ ‘‘اقلیت’’
کو معدوم کرنے کی بنیاد پر جمہوری فلاحی ریاست کی تصورپر استوار ہو۔ جو سرمایہ
داری کے عالمی مراکز میں تبد یلی کے بعد سوشلزم کی طرف گامزن ہو سکے گا۔ اس مرحلے
میں‘‘ بکھرے موتی’’ کا حوصلہ ہارنا بد
قسمتی ہے۔
۳۔ امریکہ کا نام اکثریتی لفٹ کے لئے بْل
فائٹر کے سرخ کپڑے کی مانند ہو گئ ہے۔ سچ جھوٹ، نفع نقصان بھول جاتے ہیں۔
مارکس انسانی رشتوں کی ترویج میں سرمایہ
داری کو رکاوٹ قرار دیتے تھے۔ پسماندہ افکار بھی رکاوٹ ہیں۔ عورتوں اور انسانوں کی
غلامی، طالبنائزیشن کے وحشت و بربریت کا اگر امریکہ مخالف ہے اور ہم بھی مخالفت
کریں توامریکہ کے ساتھ ہم آہنگ نظر آئیگے اس گو مگو نے لفٹ کو بے عملی کا شکار
کیا۔ پولیو کے خاتمے کے لئے امریکی ڈالر، تعلیم کے لئے یو اس ایڈUSAid کی گرانٹ
اور مسلمانوں کے فضلے کو ٹھکانے لگانے کے لئے لیٹرین بنانے کے امریکی امداد کی
حمایت میں شرم محسوس نہیں کرنی چاہئے۔ ملکی معیشیت کو سامراجی گرفت سے آزاد کرانے
کی سعی ہی امریکی مخالفت ہے ۔ اس بتدریج ٹھوس معاشی پروگرام پر بات ہی نہیں ہو
رہی۔
ملک
کا سیاسی کلچر بگڑا ہوا ہے۔ بڑے سیاسی پارٹیوں میں فرق نہیں رہا۔ موروثی پارٹیاں
ہیں۔ سیاست کاروبار بن گیا۔ اس سیاسی میلے میں بے بس یتیم عوام کی مانگوں اور فکر
کو متحد کرکے ایک قوت بنانے کی ضرورت ہے۔ نظر آنے والی ایسے محدود گروہ اپنے گرد
مزید لوگوں کو یکجا کرتی رہتی ہے۔ نیشنل پارٹی نے بلوچستان میں ایک مرکز Baseبنا
لیا ہے۔ جس کو پنجاب، سندھ اور پختونخوا میں اپنی خصوصیت کے ساتھ فیڈرل انداز میں
متبادل بنانے کی ضرورت ہے۔ بلوچستان میں قومی مسئلہ زیادہ اہم ہے تو پنجاب میں
طبقاتی، پختونخوا میں طبقاتی و قومی۔ عوامی ورکرز پارٹی کے دوستوں کو موضوعیت سے
نکل کر سنجیدگی سے سوچنا چاہئے۔ پنجاب کراچی کے دوست اس کرب کو محسوس کریں۔ ملک
گیر سیاسی ورکروں کی موثرجمہوری پارٹی کا اور کوئی متبادل نہیں۔
پیپلز
پارٹی، عوامی نیشنل پارٹی، پختونخوا ملی عوامی پارٹی اور قومی وطن پارٹی لبرل، سیکولر وراثتی پارٹیاں ہیں ۔ ہر ایک کا
اپنا اپنا رنگ ہے۔ ان کا ملک کے سیاست میں مثبت کردار ہے۔ لیکن ان کے اندر تبد
یلیاں لانے اور وراثت کی جمعہ بند یوں انتقالات میں تبد یلیوں کے لئے کاوشیں کرنے
والے پٹواریوں نے یہ تجربات بہت کیے۔ غیر فطری تجربات صرف مایوسی د یگا۔
بکھرے
موتی بحث کے لئے بنیاد ہے۔ انفرادی اور منظم بحث ومباحثہ کی دعوت ہے۔
