Saturday, November 30, 2013

بکھرے موتی۔حصہ سوم


بکھرے موتی۔حصہ سوم

قومی انقلابی پارٹی(take off)  کے پوزيشن ميں آگئی تو اس وقت دو قطبی دنيا کے ٹوٹنے کا عمل  شروع ہوا۔  قومی انقلابی  پارٹی کے قيام کے بعد پہلی سنٹرل کميٹی کے کراچی کے اجلاس ميں، ميں نے يہ مسئلہ اٹھا يا کہ لگتا ہے دنيا بدل رہی ہے۔ ہميں دوسرا کانگرس بلانا ہوگا۔ اور نئی دنيا کے تناظر ميں رائے اور لائحہ عمل بنانا ہوگا۔ گورباچوف نے بيان ديا کہ      " No to cold war" ۔ کولڈ وار تو دو نظاموں کے درميان تھا۔ کولڈ وار نہيں تو دو قطبی دنيا نہيں۔ سوشلسٹ کيمپ نہيں۔ اجلاس ميں کچھ دوست غصّہ ہوئے۔ يہ سننے کا حوصلہ نہيں تھا۔ اور کانگرس کو ٹالا گيا۔
سويت يو نین کے خاتمے پر مغربی پريس کا يک طرفہ پروپيگنڈہ تھا۔ لفٹ ميں سنجيدہ مذاکرے نہيں ہوئے۔ ٹراٹسکائٹس کے علاوہ پاکستان کے بائيں بازو ميں سويت يونین کے ٹوٹنے پر چار قسم کی رائے بنتی تھی۔
۱۔ ‘‘سويت پارٹی کی قيادت منحرف ہوگئی۔ جلد يا  بدير  پرانے موقف پر آجائيگی’’۔ سی آر اسلم۔ امام علی نازش
۲۔ ‘‘ستر سال سوشلزم رہا۔ انسانوں نے پہلے بھی تجربے کئے، يہ بھی تجربہ تھا  ،جونا کام ہوا۔ سرمايہ داری ہی واحد ترقی کا راستہ ہے۔’’ پروفيسر جمال نقوی ۔ افراسياب خٹک۔
۳۔‘‘ ستر سال سوشلزم رہا۔ جس نے سرمايہ داری پر بھی اثر ڈالا۔ سوشلزم اور سرمايہ داری نظام دونوں پرانے جيسے نہيں رہے۔ دونوں کے اشتراک سے نيا نظام وجود ميں آئيگا۔ سٹاک ایکسچنج کی نئی منصفانہ شکل وغيرہ۔ وغيرہ۔’’   يورپی نيو لفٹ کے زير اثر لوگ۔
۴۔ ‘‘مارکسی نظريے کی تين اجزائے ترکيبی ( قدرِ زايد، طبقاتی جدوجہد، جدلياتی تاريخی ماديت ) فلسفيا نہ طور پر کوئی چيلنج نہيں کر سکا۔ اس حقيقت کا متبادل نہيں ہے۔ سوشلزم نئے عصر ميں ،نئے شکل ميں، نئے انداز ميں آئيگا۔ جس کے خدوخال ابھی سے متعین کرنا ممکن نہيں۔ مستقبل بعيد اپنے نئے اقدار کے ساتھ اور زمان و مکان ميں سوشلزم کا شکل متعین کرےگا۔ مستقبل قريب کيليے تبد يلی کا پروگرام ترتيب دينے کی ضرورت ہے۔ ’’
                يہاں ستر سال سوشلزم کے دور کے دو جہتوں کا ذکر ضروری ہے۔
پہلی جہت:۔  
  اکتوبر ۱۹۱۷ ؁  کے انقلاب نے سرمايہ داری نظام کے خلاف ايک نئے نظام کو عملی طور پر متعارف کرايا۔ اور اسی طرح کرہ ارض پربسنے والے انسانوں ميں دو متحارب سماجی نظام، دو متصادم قطب وجود ميں آگئے۔ سرمايہ داری نظام جس کی قيادت برطانيہ اور يورپ کے ہاتھ ميں تھی، نے وائٹ گارڈز اور گلبدين حکمتيار کے طرز پر باسمچی تحريک کوبيس (۲۰) پچيس سال تک حکمت عملی کے طور پر سوشلزم کے خاتمے کيلئے استعمال کيا۔ ليکن ناکام ہوئے۔
دوسری حکمت عملی کے طور پر ہٹلر سے اميدتھی کہ جنگ اور طاقت کے زور پر سوشلزم کو زير کرےگا۔ ليکن ابتدا ميں ہٹلر کا يورپی ممالک پر يلغار نے اتحاد کا شکل اْلٹا ديا۔ دوسری جنگ عظيم ميں دو کروڑ روسيوں کی قربانی نے مادر وطن کو بچا ليا۔ دوسری حکمت عملی کی ناکامی کے بعد  چرچل، روزولٹ اور سٹالن نے ‘‘ ليگ آف نيشن’’ کے بجائے اقوام متحدہ کے قيام اور کچھ نکات پر متفق ہوگئے۔ سرمايہ داری نظام کی قيادت امريکہ کے ہاتھ آگئی۔ اور اس نے سرد جنگ کی تیسری حکمت عملی شروع کی۔ نیوکليائی ہتھياروں کے انبار لگ گئے۔ نیوکليائی جنگ اگر تکنیکی غلطی سے بھی چِڑھ جاتی ہے تو اگرانسان ہی نہ ہو تو نظام چہ معنی؟۔ اسّی کے دہائی کے ابتدائی سالوں ميں امريکہ نے تين ٹريلین ڈالرز کا ‘‘سٹار وارز’’  کا بجٹ منظور کيا۔ سويت يونین نے جوابی بجٹ نہ ديا اور ہينڈز اپ(Hands up) کيا۔ سويت یونین میں نو جوان جینز، ٹافی، چیونگم پسند کرتے تھے۔ لیکن عوام نے نظام سے بغاوت نہيں کی۔ بلکہ قیادت نے نئے صورت حال کیلئے رائے عامہ ہموار کرنے پر سالہا سال محنت کی۔ سویت یونین کے انہدام کوشکست کا نام دیا جائے ناکامی یا کچھ اور۔ لیکن معروض کو مد نظر رکھ کر مبنی بر حقیقت نام ہو۔
                دوسری جہت:
کارل مارکس کے دور میں سرمایہ داری نظام کے طرز پیداوار اور آج کے طرز پیداوار اور طبقات کی ہیئت میں بڑا فرق آیا ہے۔ سائینس اور ٹکنالوجی کے انقلاب کے گہرے اثرات ہیں۔ ایک صدی میں انسانی ارتقاء کے نتیجے میں اقدار اور سوچ کے انداز میں فرق آیا ہے۔ جمہوریت، نسل پرستی اور جنگوں کے شکلوں میں فرق آیا۔ ابتدائي سرمایہ داری کی جگہ  TNCs اورMNCs کی Sophisticated استحصال نے لے لی۔ تبدیلی کیلئے سماجی رشتوں کے سو سالہ پرانے پیمانے قابل عمل نہیں ہیں۔ مارکسی فکر کے تین اجزائے ترکیبی کے اصول کو بنیاد بنا کر ایسے پروگرام کی ضرورت ہے جو عوام کو وقت کے Principal Contradiction پر جوڑ کر متحرک کر سکے۔ پروگرام کے ساتھ یہ بھی اتنا ہی اہم ہے کہ الفاظ اور تنظیم کاری کا انداز ہوا میں چھلانگیں نہ ہوں۔ لاطینی امریکہ یا لندن کے ماحول اور سوچ کا حصہ نہ ہو۔ اور نہ پچاس ستّر سال پرانے ایکشن کی ری پلےہو۔ بلکہ نتایج دینے والی (Result oriented)ہو۔

کشش ثقل:  
منظرنامے میں لفظ کشش ثقل کا مطلب تھا کہ تحریک پر اکتوبر انقلاب،سویت یو نین اور سوشلسٹ بلاک کے گہرے اثرات تھے۔ کارکن عوام سے بات کرتے وقت عملی مثالیں دیتے تھے۔ اور اب انہی کارکنوں کو لوگ کہتے ہیں کہ کہاں گیا آپ کا انقلاب؟ اور اگر نہیں رہ سکا تو آپ انقلاب کے بعد کیسے برقرار رکھ سکیں گے؟قومی انقلابی پارٹی کے چارسدہ کانگرس   ( جیسے بھی تھی) میں دیر، سوات اور بونیر کے علاوہ چند کو چھوڑ کے باقی سب صوبائی و ضلعی قیادت مارکسی راستے کے خلاف کھڑی ہو گئی۔ اس کو برا بھلا کہا گیا۔ ذاکر حسین نے جو آج ‘‘سچا کھرا’’ مارکسی دھڑا کھڑا کیا ہے وہ بھی اسی صف میں کھڑا تھا۔ اور عصمت اور شاہ جہان بھی مجھے ایک دفعہ عورتوں کے مسائل کے حل کے لئے پختون نیشنلزم کو تریاق ثابت کرنے اور قائل کرنے کی کوشش کرتے رہے۔ شاک سے نکلنے اور واپسی میں دیر لگی ہے۔۔۔۔۔۔۔ لیکن موتی تو بکھر گئے۔ اس میں افغان پارٹی اور ڈاکٹر نجیب کا بھی حصہ تھا۔  ساٹھ کی دھائی کے بعد سوشلزم کے بجائے عوامی جمہوریت اور پھر قومی جمہوریت سوشلزم سے پہلے کے مرحلے کے پروگرام میں شامل رہا۔ اور یہ کہ اگر سامراج سے آزادی حاصل کی جائے تو سوشلسٹ کیمپ قومی جمہوریتوں کی معاشی، سیاسی و تکنیکی معاونت کرےگی۔ اور سوشلزم کی طرف گامزن ہونے میں مدد دےگی۔ سوشلسٹ کیمپ نہیں رہا اور اس معنی میں قومی جمہوریت کا پروگرام Invalid ہو گیا۔۔۔۔۔تو چلو رائیونڈ چلو۔۔۔۔۔۔انسانی اور سماجی ارتقا  میں سامراجی  اور سرمایہ داری نظام ہمنوا کتنا ہے اور رکاوٹ کتنا؟  اس کا حساب رکھنا ضروری ہے۔ کیا سرمایہ داری کے بغیر معاشی اور پیداواری عمل رک جائیگا؟ کیا سرمایہ داری کو آج بھی لفظ استحصالی نظام سے یاد کیا جائے؟ یا بدمعاشی، گھپلہ بازی، گنڑ کپ اور ڈاکہ بازی کا لفظ بہتر رہےگا۔ بڑے پیمانے پر ڈاکہ بازی  چھوڑیں ، جو ریڑھی والے سے سودا لیتے ہیں، جو مریض ڈاکٹروں کے پاس جاتے ہیں، جو بسترمرگ پر پڑے مریض کے لئیے دو نمبر تین نمبر دوائیں لیتے ہیں اور جو ہر روز سرمایہ داری کے حرص سے عذاب میں ہیں ان سے ذرا احوال لیں۔ پشاور میں سکول منڈی، ڈاکٹر منڈی دکان میں یونیورسٹی یا یونیورسٹی کے دکان کھل گئے۔اس نے عقیدے بھی کھوکھلے کر دیئے۔ لیکن ابھی تو ہم نے سرمایہ داری کے ساتھ ایسے زندگی گزارنی ہے جیسے کہ میں نے ایک دفعہ پلیجو صاحب سے پوچھا کہ سندھ میں مہاجر آباد ہیں سمجھوتہ کر لو آپ نے ان کے ساتھ رہنا ہی ہے۔ جواب دیا ۔ہاں رہنا ہے لیکن جیسے گھر میں بچھو کے ساتھ رہنا پڑتا ہے۔
اگر ذہن سماجی تبدیلی کے سائنسی علم سے منور ہو تو راستے نکلے  ہیں۔      
(اگے جاری ہے)
                                                         
                                                                                                                        

                                                                       

Comment