ریاسی بیانیہ اور پختون تحفظ تحریک
مختار باچا
چند دنوں سے چیف اف ارمی سٹاف اور پھر کور کمانڈر نے بھی کہا کہ پختون تحفظ مومنت کے تمام مطالبات جائز ہیں اور ان کے ساتھ بیٹھنا چاہئے یہ اچھی بات ہے ۔ اس میں مسنگ پرسنز کا مسئلہ ایسا ہے جس میں مشکلات پیش آسکتے ہیں ۔کیونکہ مسنگ پرسنز کے بہت سے رشتہ دار جو ہے ان کے پختون تحفظ مومنٹ سے بہت زیادہ توقعات ہیں کیا اس ایگریمنٹ میں ان کو یہ لوگ مطئن کرسکیں گے ۔اور ممکن ہو کہ یہ ریزرویشن پختون تحفظ مونؤمنٹ کو بھی ہو گی لیکن یہ بات آگے چل بھی سکتی ہے اور ٹالی بھی جاسکتی ہے ۔ لیکن ایک مسئلہ اور بھی ہے جوہ یہ کہ ایک تو پختون تحفظ مومنٹ کے پانچ نکات ہیں لیکن اس کے علاوہ جو ان کے جلسے و جلوس ہوتے ہیں ان میں جو نعرے لگائے جاتے ہیں وہ نعرے بذات خود اپنی ایک اہمیت رکھتے ہیں ۔ پختون تحفظ مومنٹ کا نام بھی تحفظ کے حوالے سے ہے اس دفعہ پختون نیشنلزم کسی ڈیمانڈ پر الیکٹرسٹی کا یا گیس ک کا یاکسی دوسرے بنیادی ضرورت کے حوالے سے نہیں ہے بلکہ یہ احساس کہ گزشتہ چالیس سالوں میں جو بھی کچھ ہوا اس کے ساتھ زیادتی ہوئی اورمحفوظ اب بھی نہیں ہیں ،کیوں محفوظ نہیں ہے اسی لئے کہ جنگ کے خطرے ویسٹ بارڈر پر دوبارہ ہوسکتے ہیں اور پھر پختون اس میں مارے جائیں گے اور ختم ہوجائیں گے ۔یہ خدشہ یہ ڈر اس لئے لگا رہتا ہے کہ جو ہمارے اوپر کے ذمہ دار لوگ جو قومی سلامتی پالیسی کی مناسبت سے جو ایکشن اور ایکٹویٹی اور جوخارجہ پالیسی ہے اسی سے یہ ڈر یہ خوف لگا رہتا ہے کہ شاید کہ پھر یہ تقاضہ ہو کہ دوبارہ ایسا نہ ہو ۔یہ سمجھتا ہو ں کہ اعتماد کی بحالی بہت ضروری ہے اس ڈائیلاگ کے ذریعے ہم پختون تحفظ مومنٹ کو نہ تو کوئی تجویز دے سکتے ہین اور نہ کوئی ڈیمانڈ کرسکتے ہیں ان کی اپنی تحریک ہے اور وہ اپنے طریقے سے چلا رہے ہیں ۔میں صرف ایک چیز کی طرف توجہ دلانا چاہوں گا کہ یہ جو تحفظ کے احساس کا مسئلہ جن چیزوں سے جڑا ہوا ہے ایک یہ کہ سلامتی سیکیورٹی سٹیٹ کی پالیسی کے نتیجے میں یہ سب کچھ پھر بھی ممکن نہیں اور ایک پیراڈائم شفٹ کی ضرورت ہے جب تک کہ وہ نہیں یا اس ڈائریکشن میں ہم نہیں جائیں گے یہ خدشے پھر بھی رہیں گے ۔ ہمارا ملک ایسا نہیں کہ کوئی گاجر مولی کی طرح ہڑپ کرلے گا اس دنیا میں ایک سو تریاسی ممالک ہیں اور ایسے ممالک بھی ہیں جس کے پاس اپنی فوج بھی نہیں ہے چھوٹے سے دستے سلامی کے لئے رکھے ہوئے ہیں آ ج کی دنیا میں کوئی ملک دوسرے ملک پر قبضہ نہیں کرسکتا اقتصادی جنگ ہے جو جتنا مضبوط ہوگا اتنا ہی آگے ہوگا اور اتنا ہی ان کا انفلونس بھی ہوگا ۔کیا ہم اس پیراڈائم کی بجائے جو ہماری ہے کہ ہمسایہ ممالک سے ہمیں ڈر لگتا ہے اس کی بجائے ہم امن Solidrity اور Development کا تصور کیوں نہیں اپنا سکتے اس کے نتیجے میں ہمارے سیکیورٹی کی جو Perception ہے وہ بھی بدل جائے گی ۔اور اس کی ضرورت بھی آجائے گی کہ ایک نیا سوشل کنٹریکٹ جو ہے وہ اس مسئلے کو کو گارنٹی دے سکتی ہے ۔میں یہ نہیں کہتا یہ فیصلہ کرنا دنوں میں نہیں ہوتا لیکن اس کی طرف ڈائیریکشن بنانا یا Intention کا اظھار بھی کافی ہوگا کہ ایک باہوش تبدیلی آرہی ہے ۔ اس ملک میں ایک نیا سوشل کنٹریکٹ کی ضرورت ہے قوموں کا اٹھاریوں ترمیم سے بہت سارے مسئلے وہ صوبوں کو اختیار مل گیا لیکن پھر بھی یہ مسئلے اٹھتے رہتے ہیں ۔ کیوں نہ ہم جو فیڈریشن بنا رہے ہیں اوپر سے نہیں نیچے سے بنائیں نئے سوشل کنٹریکٹ میں فیڈریشن کا تصور نیچے سے بننا اور یہ جو کلاس گیپ ہے اس کو کم کرنا ڈیموکریسی ہیومن رائٹس کی بنیادوں کو بنیاد بنانافرقہ واریت کے لئے زیرو ٹالرنس ہونی چاہئے مسلمان ایک دوسرے کو کاٹ رہے ہیں اور اس طرح خواتین کا جو رول ہے جو معاشرے کا پچاس فیصد ہیں اس کو اہمیت کے لئے زیادہ اقدامات کی ضرورت ہے اور یہ مذاکرات تب کامیاب ہوسکتے ہیں جب کہ اسٹبلشمنٹ کی طرف سے اور اوپرکی طرف اس قسم کے اشارے ملے اور Intention ہوکہ ریاست کو بہتری کی جانب گامزن کرنی ہے ۔تو تحفط کا احساس ہوگا اوراس طرح یہ جو اعتمادکافقدان ہے یہ بھی ختم ہوجائے گا ۔ہماری دعا ہے خواہش ہے کہ یہ کامیاب ہوجائے اور ہم مزید خونریزی سے بچ جائیں ۔
