Tuesday, October 6, 2015

سٹراندکے شکار موتی

سٹراندکے شکار موتی
مختار باچا

انسانی سماج شعور و اگاہی کے سبب روحانی و مادی ترقی کے طرف گامزن ہے ۔ حرکت مسلسل حرکت۔
پیداواری عمل میں تیزی کے ساتھ اسائیشں  وسہولتیں بڑھتی جارہی ہیں ۔ نیچر (Nature) کےکچھ انسان مخالف اقدامات پر قابو پایا جا رہا ہے۔ موسیقی ، فن ونظاکت کے ساتھ ساتھ رشتو ں میں امن پیار اور جمہوری اقدار پروان چڑھتی ہیں۔انسان شعور کے رحمانی طاقت پر بھروسے سے ایسا طاقت جنم پزیر ہوتی ہے کہ انسان دوستی اور انسانیت  لافانی (eternal)بن جاتی ہے۔
ایسے میں مضبوط اور موتی  افراد ان  اقدار کے مجسم نمائندے بن جاتے ہیں۔ اور جو برائی کے خلاف لڑنے کو مقصد زندگی بنا دیتے ہیں ۔ حیوان اور انسان میں فرق کو نہ صرف زندہ رکھے ہوئے ہیں۔بلکہ معراج کے اگلے مرحلے کے طرف گامزن رہتے ہیں۔ ایسے افراد اجتماعی کاوشوں سے سماجی و سیاسی تحریکوں کو بڑھاوادیتے ہیں۔ جتنا کومٹ منٹ ہو ،عقیدہ مستحکم ہو، اتنے نتائج لاتے ہیں۔
لیکن ۔۔۔۔گزشتہ چند عشروں سےہماری سوسائٹی پر ایک وائرس کاحملہ ہے۔ ڈینگی ،  HIV سے زیادہ خطرناک ۔
قنوطیت اور بیزاری کا وائرس۔
Fatalism کا وائرس ۔ وائرس کا یہ حملہ ابتدائی نہیں ہے بلکہ اس کا سڑاند شروع ہو چکا ہے۔
قنوطیت اور بیزاری کے وائرس کیلئے ہمہ جہتی سازگار ماحول میسر تھا اور ہے۔ لیکن ہے جو  (Save our Souls ) SOS کال دے!
قنوطیت کیلئے سازگار ماحول اقتصادی ٹہراونے فراہم کیا۔ نتیجتا بے روزگاری گھنٹی (Alarm) کی حد پار کرکے (Catastrophe)کے دروازے پر پہنچ چکی ہے ۔
ضیا الحق نے جو سیاسی کلچر پروان چڑھایا اس نے امیدوں کے چراغ گل کردیئے۔
فرقہ واری عقیدے نے انسان دوستی کا قتل کرایا۔ جہادی  خارجہ و داخلہ پالیسی کے نتیجے میں جب نعرہ تکبیر کے ساتھ انسان ذبح ہوتے دیکھاجائے تو انسانی  زہین ماؤف ہو جاتا ہے۔
ملکی بقا اور سیکورٹی کے نام پر بندوق کے راج کے سامنے بے بسی کے علاوہ اور کیاذہین میں آسکتا ہے؟ حق اور ناحق سے مبرا   پیسہ پیسہ  اور ذاتی مفاد عروج پر ہے۔ بھری مسجدو ں میں لوگوں کے عقیدے اور ایمان کے باوجود ہر کسی کا  عمل اس کے برعکس ہے۔ بہتر انسانی معاشرے کی مجسم مثال کی غیر موجودگی اور ایسے دیگر عوامل قنوطیت بیزاری کی کو جنم لیتی ہیں۔
مانتے ہیں۔ ۔!     لیکن کیا انسانیت کے جنازے کو کندھا دیا جائے ؟ اشرف المخلوقات کے لقب کو تمغوں کے ساتھ واپس کیا جائے ؟بچوں اور ائندہ نسلوں کو حیوانوں کے جنگل میں دھکیلنامیں معاونت کریں؟
قنوطیت ، بیزاری اور غیر وابستگی کےوائرس کو  HIV یا پراناTB سمجھ کر زندگی کے بقیہ لمحات کو بستر ِمرگ میں تبدیل کریں؟ دائمی صداقت سے انکھیں موڑ دیں؟
نہیں تو کم از کم انسانوں کے کمزور ترین صفوں میں کھڑے ہو جائیں۔  اپنا علاج خود کرنا ہے۔ہر کوئی اپنا اپناجائز ہ لے۔ہر کوئی اپنے پیدا کردہ کنفوژن کا شکار ہےاور اس میں رہنا پسند کرتا ہے۔ کوئی تو فکرو سوچ کا ایسالباس اوڑھے ہوئے ہیں جس کے آستین، دامن و کالر الگ الگ رنگ کے ہیں۔اور یا ناقابل عمل تخیل کو محبوب بنا کر عشق میں مبتلا ہے۔ اور حق میں شعر تراشتے ہیں۔
ایسے سڑاندکے شکار موتیوں کو دْعا نہیں کروں گابلکہ چاہوں گا کہ وہ اپنے لئے خود دوا کا سوچیں۔

Comment