Sunday, December 8, 2013

بکھرے موتی ۔ حصہ چہارم

بکھرے موتی۔ حصہ چہارم

پختونخوا کا لفٹ سب مل کر بھی کوئی خاص عد دی حیثیت نہیں رکھتے۔ عد دی حیثیت کم بھی ہواگر عوام کو ساتھ جوڑتے، متحرک کرتے توآج کے سیاسی خلا کے دورمیں اہم سیاسی مقام بنا سکتے تھے۔ فی الحال پرانی بیٹری کے پرانے چارج پر گزارہ ہے۔ تھکے ہارے، حوصلہ کھویا ہوا، ایک دوسرے سے ناراض، آپس میں(interaction) نہیں کر تے۔ ورنہ ذ ہنوں کے دریچے کھلتے۔ ہر ایک کی زندگی ایک تاریخ ہے،ایک کہانی ہے۔
 جیسا کہ ذکر کیا تھا تین نظریاتی یا فکری گروپوں میں منقسم ہیں۔
۱۔ سٹالنسٹ کمیونسٹ پارٹی آف پاکستان۔  ان کا خیال ہے کہ سٹالن کے بعد تحریک موقع پرستی اور سازشوں کا شکار رہا۔ ہم آئندہ ایسا نہیں ہونے دینگے۔ آپ کے ارادے کی تکمیل کے لئے یہ بھی ضروری ہے کہ ٹائم ٹنل(Time Tunnel) میں سو سال پیچھے چلے جائیں۔ زار کا روس ہے۔ پہلی جنگ عظیم کا خاتمہ ہے، سرمایہ داری کا ابتدائی دور ہے، روسیوں نے کبھی بورژوا جمہوریت نہیں دیکھی ہے، روسی کلاسیکل ادب کا عروج ہے، اپنی تاریخی اقدار اور نفسیات ہیں، ریاست کمزور ہے، تخلیقی قیادت ہے، انقلاب برپا ہوتا ہے۔ انقلاب کی تکمیل کیلئے ہر دور میں بھرپور کردار ادا کرتےآئے ہیں۔ ایسے میں یہاں سے آپ کا کیا رول (Role)بنتا ہے؟ موضوعی دنیا سے نکل کر، اپنے اور دوسروں کے ایمان پر شک کئے بغیراور تسبیح پڑھنا چھوڑکرآج کے دور میں آئیں۔ پاکستان اور پختونخوا میں آئیں۔ آج کو تبد یل کرنے کے لئیے نتیجہ خیز صبح کا اغاز کریں اور شام کوعوام کی پیش رفت کا جائزہ لیں اور اس میں اپنے کردار کا تعین کریں۔
انجنئر جمیل ملک کی کمیونسٹ پارٹی انتخابات میں حصہ لیتی ہے۔ عوامی مسائیل پر اپنی بساط جد و جہد کرتی ہے وہ چاہے عدالت کے ذریعے کیوں نہ ہو۔اور عوامی دھارے میں شامل ہونے کی کوشش کرتی ہے۔ لیکن انگریز کے ڈ یڑھ سو سالہ اسلام کے حوالے سے پروپیگنڈے کے نتیجے میں عوامی بنیاد پر پاکستان میں پارٹی کھڑی کرنا تقریبا ناممکن ہے۔ نام سے چمٹے رہنا ضروری ہے یا مقصد کا حصول؟

۲۔ پہلے گروپ کے تربور( متحارب چچا زاد ) لال خان ( تنویر گوندل ) والوں کے بھی کافی گروپ ہیں۔ لیکن بنیادی فکر اور انداز ایک جیسا ہے۔ ستر سال پرانے تاریخی واقعات کے اسیر ہو گئے، بدلے کی سیاست میں پھنس گئے۔ رہنما لندن میں لیبر پارٹی میں کام کرتے ہیں سوچا پاکستان میں لیبر پارتی نہیں تو پیپلز پارٹی میں کام کیا جائے۔ طبقاتی جد و جہد پر زور دیتے ہیں لیکن‘‘ جیوے بلاول بھٹو زرداری’’،‘‘ جیوے انور سیف اللہ’’ کو مزدور طبقے کی سیاست سمجھتے ہیں۔ تنظیم میں مارکسی تعریف کے پرولتاریہ کا کتنا فیصد حصہ ہے۔ کتنے صنعتی مزدوروں کو یونئنز میں منظم کیا۔ روزمرہ کے اہم ایشوز پر عوام کو اگاہی دیتے ہوے منظم کرنے والے مارکسیوں کا شکار کرتے ہیں اور سیاست کے بجائے تاریخ کے بہنور میں دھکیلتے ہیں۔ ان کے نزد یک تحریک طالبان طبقاتی جد و جہد ہے۔ قومی مسئلہ، جمہوری مسئلہ بورژوا جمہوریت کے بے معنی غیر اہم مسائل ہیں۔ عوام خود انقلاب لائیں گے۔ اور عوام کے جتھے  ڈھونڈ کران کو قیادت سپرد کردیں گے۔ جہاں تک لیون ٹراٹسکی اور کمنٹرن کے کچھ دیگر رہنماوں کا اکتوبر انقلاب کے وقت موقف کہ انقلاب سرمایہ داری کے مراکز والے ممالک میں آنا چاہئے میں کافی حقیقت تھا لیکن لینن کے موقف میں بھی بہت زور تھا۔ آج کے دور میں سرمایہ داری کےمراکزانقلاب کے مراکز ہوں گے۔ سوشلسٹ کیمپ کے خاتمہ کے بعد یورپ امریکہ کیلئے ان کا موقف درست ہوگا۔ وہاں پر ان کے تنظیموں کا کردار اور پروگرام بھی درست ہوگا۔  وہاں وہ لوگ انقلاب لے آئیں گے تو ہمارے جیسے ممالک کیلئے بھی راستے کھلیں گے۔کسی بھی ملک میں انقلاب یا کوئی بڑی تبدیلی کے اپنے اپنے Dynamicsہوتے ہیں ۔ کوئی ایکشن ریپلے(Action Replay) ممکن نہیں ہوتا۔  فاروق طارق  نے درست سمت میں   قدم رکھا ہے ۔
ان دونوں گروپوں کے مارکسزم کے اپنے اپنے Interpretationsکے علاوہ   آج اور بھی چھوٹے چھوٹے گروپ اور افراد نظریاتی مسائل کو اپنے اپنے  انداز سے دیکھتے ہیں ۔ اس میں کوئی برائی نہیں ہے۔ لیکن جب Interpretationعوام کو کم از کم پروگرام پر اکھٹے کرانے ، ایک پلیٹ فارم پر جمع کرانے، عوام کے عمومی سوچ کو عمل میں تبدیل کرنے ، چھوٹی کامیابیوں کے زریعے سیکھنے میں مزاحم ہوجائے تو یہ گناہ ہے۔
مارکسزم انسان کو سماجی ، معاشی عمل کے زریعے مادی و روحانی ترقی کے طرف گامزن کرانے کا علم ہے، ہر اس عمل کے خلاف جدو جہد ضروری ہے۔ جو انسان معاشرے کی مادی و روحانی ترقی میں رکاوٹ ہو۔
(جاری ہے)


Comment